کمال تشنگی ہی سے بوجھا دیتے ہیں پیاس اپنی
اسی تپتے ہوئے سہرہ کو ہم دریا سمجھتے ہیں۔

کمال تشنگی ہی سے بجھا کوئی ہیں۔ پیاس اپنی

اسی تپتے ۔ صحرائی کو ہم دریا ایک ہیں۔

کمال-اے-تشنگی بھی سے بوزا لیٹے ہیں پیاس آپ کی

اسی تپتے ہونے والا سہرا کو ہم دریا سمجھائیں ہیں